پاکستان کے چار کروڑ شیعہ اثناء عشریہ کیلئے ایرانی انقلاب شروع سے ہی ایک معمہ رہا ہے۔ چونکہ اکثریت فارسی سے نابلد ہے لہٰذا ایرانی انقلاب کی حقیقت سے بے خبر رہی۔ اس انقلاب کے بارے میں معلومات کا ذریعہ وہ مولوی صاحبان رہے جن کی روٹی ایرانی حکومت کے دسترخوان سے وابستہ تھی۔ ان کی تعلیمی قابلیت بھی اتنی نہ تھی کہ غیر جانبدار ہو کر اس کا مطالعہ کرتے اور عوام کے سامنے حقائق رکھتے۔ چنانچہ انہوں نے مجالس میں اہلبیت علیہم السلام کے ذکر کی جگہ اس انقلاب کے فضائل و معجزات گھڑ گھڑ کر سنانا شروع کئے اور غلو کی حدیں پار کر دیں۔ بدلے میں انکو انعامات ملے اور وہ جائیدادوں اور گاڑیوں کے مالک بن گئے۔ جس کسی نے خوف خدا کے ڈر اور مودت اہلبیت علیہم السلام سے لبریز ہو کر سچ بولنا چاہا، اسے پراکسیز کے ذریعے دبا دیا گیا کہیں جھوٹے کیسز اور کہیں جبر و تشدد کہیں شہادتیں ۔ یوں پاکستانی شیعیان حیدر کرار کے عقائد اور جذبات کے ساتھ بدترین کہلواڑ ہوا۔ مرکز ولایت علی پاکستان سندھ اس کمی کو پورا کرنے کیلئے ایرانی انقلاب کا حقیقی چہرہ عوام کے سامنے لا رہا ہے تاکہ شیعیان امام مظلوم کو حقائق سمجھنے اور ان سے سبق حاصل کرنے میں مدد مل سکے۔ کتاب حاصل کرنے کے لیے رابطہ کیجیے شعبہ نشرو اشاعت مرکز ولایت علی پاکستان (سندھ)
حماقتِ صدرا - مرکز ولایت علی پاکستان (سندھ) کی نئی پیشکش 1945ء میں دوسری جنگ عظیم ختم ہوئی تو دنیا میں امریکہ اور روس نئی طاقتوں کے طور پر ابھرے اور دنیا کے وسائل پر قبضہ کرنے کیلئے باہم بر سر پیکار ہو گئے۔ یہ کہنے کو سرد جنگ تھی، لیکن اس کی تپش کمزور اور پسماندہ اقوام کو سہنی تھی۔ مسلم ممالک میں بھی دونوں سپر پاورز کی طرف سے لوگوں کو بیوقوف بنا کر اپنے مفادات کیلئے استعمال کرنے کا سلسلہ شروع کیا گیا۔ اس کوشش نے دینِ اسلام کی معنوی تحریفات میں بہت تیزی پیدا کی۔ منحرف خیالات رکھنے والے مولوی صاحبان پہلے سے موجود تھے، لیکن ان کو معاشرے کی طرف سے مالی حمایت حاصل نہیں ہوتی تھی۔ جب روس نے وسیع پیمانے پر لٹریچر شائع کر کے کمیونزم کی جہالت پھیلانا شروع کی تو امریکہ نے اخوان المسلمون کی جہالت کو مسلم دنیا کے کونے کونے تک پہنچا دیا۔ مولانا مودودی اور سید قطب کی فکر کو ڈالر کا سہارا میسر آیا تو مسلمان معاشرے اخوانیوں کے ہاتھ لگ گئے۔ انہوں نے دین کا معنی نظام کیا اور ہٹلر جیسوں کی دیوانگی کو اسلامی ٹچ دے کر خلافت کے احیاء کی تحریک چلا دی۔ شیعہ مکتب فکر بھی اس آندھی سے محفوظ نہ رہ سکا۔ 1960ء کی دہائی میں جماعت اسلامی اور اخوان المسلمون کا لٹریچر فارسی میں ترجمہ ہو کر ایران میں شائع ہوا۔ یہی سوچ علی شریعتی صاحب نے بھی پھیلانا شروع کی۔ شاہِ ایران امریکی کیمپ میں تھا لہٰذا اس نے اپنے جاسوسی ادارے ساواک کی مدد سے اخوانیوں کو ڈھونڈ کر یونیورسٹیوں میں ملازمتیں دیں اور یوں مرتضٰی مطہری، مفتح، شریعتی جیسے کئی لوگ شیعیت کا چہرہ بگاڑنے میں مصروف ہو گئے۔
تیغ اصیل مرکز ولایت علی پاکستان کی نئی پیشکش ایرانی انقلاب کے بعد کے جبر کی ایک ہلکی سی جھلک ان سادہ دل پاکستانی شیعوں کے سامنے رکھتی ہے جو فارسی نہ جاننے کے سبب اس انقلاب کی حقیقت کو سمجھنے سے قاصر رہے اور ایرانی پیٹرو ڈالر کے خریدے ہوئے خطیب ان کے جذبات سے کھلواڑ کرتے رہے۔ اس انقلاب کا تاریخی اور سماجی پس منظر سابقہ کتاب، "اخوانی شیعیت" میں طشت از بام کیا جا چکا ہے۔ نظریاتی اعتبار سے ولایت فقیہ مطلقہ کی حکمرانی کا بانی اور اسلامی انقلاب کا رہنما ؤ قائد خمینی اپنے سے بڑے مراجع عظام کو سب سے پہلے اپنے انقلابی عتاب کا نشانہ بنا کر انہیں قید و بند کی صعوبتوں میں مبتلا کرتا ہے۔ ان کا جرم فقط یہ تھا کہ وہ نظریہ ولایت فقیہ مطلقہ کو آئمہ معصومین ع کی صریحاً مخالفت خیال کرتے تھے۔ یہ وہ بزرگ علماء و مراجع کرام تھے کہ جنہوں نے 1964 میں روح اللہ خمینی کی جان بچانے کے لئے اسے درجہ اجتہاد کا اجازہ عطا کیا تھا کیوں کہ اس وقت کی ایرانی عدالتیں اسے ملک میں ہنگامہ آرائی اور فسادات منظم کرنے کے جرم میں اسے سزائے موت سنانے جا رہی تھیں۔ روح اللہ خمینی اپنے اعتقادی نظریات میں جن شخصیات سے متفق اور متاثر تھا وہ تمام شخصیات دور قدیم سے بزرگ امامی شیعہ علماء کی نظر میں شیعہ اعتقادات سے منحرف اور صوفی نظریات کے پیروکار تھے۔ ایسے افراد نے قرآن کی واضع اور صاف آیتوں کی جھوٹی روایتوں اور یونانی اوہام کے تحت من پسند تاویلات پیش کی تھیں جو آیات قرانی کے معنی و مطالب کو بلکل الٹ پلٹ کر رکھ دیتی ہیں۔ ایسی شخصیات میں محیی الدین ابن عربی، رشید الدین میبدی، عبدالرزاق کاشانی، صدرالدین قونوی، ملا صدرا شیرازی، امام غزالی وغیرہ جیسے مشہور و معروف صوفی الخیال افراد تھے جن کے اعتقادات اور نظریات سے آئمہ معصومین ع سے لیکر ہر دور کے امامی علما نے اظہار برائت کیا ہے۔
